Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بیوہ نکاح کرلے تو پہلے شوہر کی وراثت میں حصہ دار ہوگی یا نہیں؟
- Fatwa no.
- 769-Web
- Issued
- 19 جمادی الاول 1444ھ /14دسمبر 2022ء
Question
نہیں؟ دار الافتاء ایلسنت (دعوت اسلامی) اگر شوہر فوت ہو جائے اور اس کی اولاد بھی ہو اور اس کی وراثت تقسیم ہونے سے پہلے ہی بیوی آگے کسی اور سے نکاح کرلے، تو کیا بیوی کو پہلے شوہر کی وراثت سے کچھ ملے گا؟
Answer (beginning)
وراثت سے محرومی کے صرف چار اسباب ہیں، ان چار اسباب کے علاوہ کوئی چیز وارث کو وراثت سے محروم نہیں کر سکتی اور کسی عورت کا اپنے شوہر کی وفات کے بعد عدت گزار کر آگے نکاح کر لینا وراثت سے محرومی کے اسباب میں سے نہیں، لہذا پوچھی گئی صورت اگر بیوی نے عدت گزرنے کے بعد کسی اور سے نکاح کیا ہے ، تو اس کا نکاح کرنا بھی درست ہے اور سابقہ شوہر کی اولاد کی موجودگی میں اس کے ترکہ سے سابقہ بیوی کو آٹھواں حصہ بھی ملے گا۔ اگر سابقہ شوہر کا کوئی وارث سابقہ بیوی کے حق شرعی کو ناحق روکے گا تو سخت گناہ گار اور مستحق عذاب نار ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.