Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حج اور عمرہ میں عورت کا بال کاٹنے یا تقصیر کا شرعی حکم
- Fatwa no.
- 754-Web:
- Issued
- 18 جمادی الاوّل 1444ھ / 13 دسمبر 2022ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) عور تیں عمرہ کرنے کے بعد ا گر چند بال لے کر ایک پورے کے برابر کاٹ دیں تو کیا تقصیر ہو جائے گا؟ یا پورے سر کے بال ایک پورے کے برابر کالنے ہوں گے؟
Answer (beginning)
چند بال کاٹ لینا کافی نہیں، بلکہ کم از کم چوتھائی سر کے بالوں میں سے ہر بال انگلی کے ایک پورے کے برابر کاٹنا لازم ہے۔ البتہ سنت یہ ہے کہ پورے سر کے بالوں کی تقصیر کی جائے۔ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: "سر میں جتنے بال ہیں ان میں کے چہارم بالوں میں سے کتر واناضروری ہے، لہذا ایک پورہ سے زیادہ کتر وائیں کہ بال چھوٹے بڑے ہوتے ہیں ممکن ہے کہ چہارم بالوں میں سب ایک ایک پورانہ ترشیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.