Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نبی پاک ﷺ کے موئے مبارک کو غسل دینے کی شرعی حیثیت

Fatwa no.
752-Web
Issued
17 جمادی الاوّل 1444ھ /12دسمبر 2022ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک کو غسل دینا جائز ہے ؟ اور جس پانی سے غسل دیا جائے ، اس پانی کا کیا کیا جائے؟

Answer (beginning)

موئے مبارک کو غسل دینا جائز ہے، غسل دینے کے بعد اس کا پانی پھینکا نہ جائے بلکہ بہتر یہ ہے کہ یہ پانی بطور تبرک شفاء کے لیے پی لیا جائے جیسا کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان، حضور اقدس صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بال شریف کو دافع بلا اور باعث شفا سمجھتے اور انہیں پانی میں غسل دے کر وہ پانی پی لیا کرتے تھے۔ مشکوۃ المصابیح میں بحوالہ بخاری شریف حضرت عثمان بن عبد اللہ بن موہب سے مروی ہے انہوں نے فرمایا: أرسلني أهلي إلى أم سلمة بقدح من ماء وكان إذا أصاب الإنسان عين أو شيء بعث إليها مخضبه فأخرجت من شعر رسول الله صلى الله عليه وسلم وكانت تمسكه في جلجل من فضة فخضخضته له فشرب منه ، یعنی مجھے میرے گھر والوں…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.