Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

لائن سے آنے والے پانی میں ہلکی سی بو ہو، تو پانی پاک ہے یا ناپاک

Fatwa no.
743-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہماری بلڈ نگ میں آنے والے لائن کے پانی میں ہلکی بد بو آرہی ہے تو یہ پانی پاک ہے یا نا پاک ؟ اور اس پانی کا استعمال جائز ہے ؟

Answer (beginning)

اگر اس پانی میں کسی ناپاک چیز کے ملنے کا یقینی طور پر علم نہیں ہے تو اس صورت میں جب تک پانی میں کسی ناپاک چیز کے شامل ہونے کا یقینی علم نہ ہو اس پانی کو پاک ہی سمجھا جائے گا، اسے ناپاک نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ پانی میں بد بو آنا صرف اس کے ناپاک ہونے کی وجہ سے ہی نہیں ہوتا بلکہ اس کی اور بھی وجوہات ہیں مثلاً پانی کافی عرصے تک ایک ہی جگہ کھڑار ہے تو اس سے بھی بد بو پیدا ہو سکتی ہے اس صورت میں چونکہ پانی کا ناپاک ہو نا یقینی نہیں لہذا اسے پاک ہی شمار کیا جائے گا۔ البتہ اگر دو سر اصاف پانی موجود ہو تو ایسے پاک بد بودار پانی سے وضو و غسل کرنا مکروہ ہو گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.