Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
تہجد کے وقت پہلے وتر کی نماز ادا کرنی چاہیے یا تہجد کی نماز
- Fatwa no.
- 743-Web
- Issued
- 14 جمادی الاوّل 1444ھ/09دسمبر 2022ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر و تر تہجد تک مؤخر کر کے پڑھنے ہوں، تو پہلے تہجد ادا کریں گے یاو تر ؟ بحوالہ رہنمائی فرمادیجیے۔
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں بہتر یہ ہے کہ پہلے تہجد ادا کریں اور آخر میں وتر پڑھیں۔ واضح رہے کہ تہجد تک و تر کو مؤخر کرنا اسی کے لئے بہتر ہے جسے یہ اعتماد ہو کہ وہ تہجد میں اٹھ جائے گا، اگر یہ اعتماد نہ ہو تو پھر رات کو سونے سے پہلے و ترادا کر لئے جائیں۔ حضرت سید ناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’اجعلوآخر صلوتكم بالليل وترا“ ترجمہ : رات کی نمازوں کے آخر میں وتر پڑھ پڑھو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.