Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
وطن اصلی سے سو کلو میٹر دور کسی شہر میں کام یا پڑھائی کے لئے گئے تو نماز کا حکم
- Fatwa no.
- 653-Web
- Issued
- 12 ربیع الثانی 1444ھ /8 نومبر 2022ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) مجھے اپنے وطن اصلی اسلام آباد سے میر پور، آزاد کشمیر کا سفر کرنا ہوتا ہے۔ اسلام آباد سے میر پور تک کا فاصلہ 100 کلو میٹر سے زائد ہے۔ میر پور میں ایک ہاسٹل میں قیام ہوتا ہے ، جہاں رہنا سہنا تقریباً ایک گھر ہی کی طرح ہے۔ کبھی میر پور میں قیام 15 دن سے کم اور اکثر 15 دن سے زیادہ ہوتا ہے۔ سوال ہے کہ کیا میر پور میں نماز قصر پڑھنا ہو گی ؟
Answer (beginning)
جب کہ اسلام آباد آپ کا وطن اصلی ہے اور میر پور عارضی طور پر (پڑھائی یا کام کاج کے لئے ) جاتے ہیں، تو میر پور پہنچنے کے بعد اگر آپ وہاں مسلسل پندرہ دن رات یا اس سے زائد ٹھہرنے کی نیت کرتے ہیں، تو آپ وہاں مقیم کہلائیں گے اور نماز مکمل پڑھنی ہو گی، اور اگر وہاں پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت ہے، تو نماز میں قصر کرنا ہو گا۔ البتہ دورانِ سفر دونوں راستوں میں مسافر والے احکام جاری ہوں گے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.