Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مغرب کے بعد سو گئے تو کیا رات میں اٹھ کر عشاء اور تہجد پڑھ سکتے ہیں ؟
- Fatwa no.
- 645-Web
- Issued
- 12 ربیع الثانی 1444ھ / 8 نومبر 2022ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر ہم مغرب کی نماز کے بعد سو جائیں اور رات کو 10 بجے اٹھیں ، تو اب ہم عشاء کی نماز کے ساتھ ساتھ تہجد بھی ادا کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ اور عشاء کی نماز کا آخری وقت کیا ہو گا؟ اور کیا تہجد کا بھی کوئی مخصوص وقت ہے یا ہم عشاء کی نماز کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
عشاء کی نماز پڑھے بغیر سوگئے اور پھر اٹھ کر عشاء کی نماز پڑھی، تو عشاء ہی پڑھ سکتے ہیں، تہجد نہیں پڑھ سکتے، کیونکہ تہجد کیلئے ضروری ہے کہ عشاء کی نماز پڑھ کے سویا جائے، پھر جب بھی آنکھ کھلے تہجد پڑھی جاسکتی ہے، تہجد کا کوئی خاص وقت نہیں ہے بس یہ ضروری ہے کہ عشاء کی نماز پڑھ کر کچھ سویا جائے اور فجر کا وقت شروع ہونے سے پہلے پہلے تہجد پڑھی جائے۔ عشاء کی نماز کا وقت تب تک رہتا ہے جب تک فجر کی نماز کا وقت شروع نہ ہو، جوں ہی فجر کی نماز کا وقت شروع ہوا، تو اب عشاء کی نماز کا وقت ختم ہو جائے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.