Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نکسیر کے بعد چھینک آجائے اور کپڑوں پر لگ جائے تو کیا حکم ہے ؟
- Fatwa no.
- 729-Web
- Issued
- 16 ربیع الثانی 1444ھ /12 نومبر 2022ء
Question
سردیوں میں مجھے اکثر ناک سے خون آتا ہے، خون نکلنے کے بعد اس کا کچھ اثر ناک میں باقی رہتا ہے ،اس دوران اگر چھینک آئے اور ناک سے نکلنے والا مواد آستین پر گر جائے، تو کیا آستین ناپاک ہو جائے گی جبکہ اس میں خون نہیں ہوتا؟
Answer (beginning)
جب ناک سے خون بہا، تو ناک کا اندرونی حصہ ناپاک ہو جائے گا، لہذا ناک میں پانی ڈال کر ناک دھولی جائے۔ بہر حال بعد میں آنے والی چھینک میں بہتا خون یا خون کی وجہ سے رنگ بدلا ہوا نزلہ نہ نکلے تو وہ پاک ہے ،اس کے لگنے سے آستین وغیرہ نا پاک نہیں ہو گی۔ نیز ناک کو آستین سے صاف کرنے کے بجائے رومال وغیرہ سے صاف کرنا بہتر ہے۔ یادر ہے کہ اگر ناک سے خون بہنے کے بعد ناک سے ایسا نزلہ نکلے جس میں سرخی ہو، اس کی وجہ سے زکام کی ریزش کار نگ بدل جائے، تو وہ ناپاک ہو گی، اگر اس وقت وضو تھا، تو وضو ٹوٹ جائے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.