Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جمعہ کو نمازیوں میں مٹھائی بانٹنے کی منت ماننے کا حکم

Fatwa no.
594-Web
Issued
01 ربیع الثانی 1444ھ / 28 اکتوبر 2022ء

Question

ہندو نے منت مانگی کی اگر میرا فلاں کام ہو جائے، تو میں جمعہ کے دن نمازیوں میں پانچ کلو مٹھائی بانٹوں گی۔ منت پوری ہوئی اور ہندہ نے ایسا ہی کیا، لیکن تقریبا آدھا کلو مٹھائی بچ گئی، اب ہندہ یہ جاننا چاہتی ہے کی بچی ہوئی مٹھائی ہندہ کھا سکتی ہے یا نہیں کیونکہ منت تو پانچ کلو کی تھی اور مٹھائی ساڑھے چار کلو ہی بٹی، تو بچی ہوئی مٹھائی ہندو اور اس کے گھر والوں کے لیے کھانا حلال ہو گا یا نہیں یا آدھا کلومنت کے طور پر اسے پھر سے بانٹنا پڑے گا ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں مسجد میں مٹھائی بانٹنے کی منت ، منت شرعی نہیں ہے لہذا بچ جانے والی آدھا کلو مٹھائی ہندہ کے لئے اور اس کے گھر والوں کے لئے کھانا، جائز ہے، کھا سکتے ہیں۔ فتاوی رضویہ میں ہے: ” مساجد میں شیرینی لے جائیں گے یا نمازیوں کو کھلائیں گے ، یہ کوئی نذر شرعی نہیں، جب تک خاص فقراء کے لئے نہ کہے اسے امیر فقیر جس کو دے سب لے سکتے ہیں۔ “(فتاوی رضویہ، جلد 13، صفحہ 585، رضا فاؤنڈیشن، لاہور) وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-ifta AhleSunnat f…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.