Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا عقیقہ کرتے وقت بچے کا پاس ہونا ضروری ہے؟
- Fatwa no.
- 591-Web
- Issued
- 01 ربیع الثانی 1444ھ / 28 اکتوبر 2022ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) بچی کی پیدائش کے ساتویں دن عقیقہ کیا جارہا ہے، تو کیا عقیقہ کے وقت بچی کا نزدیک ہو نا شرط ہے ؟ یعنی بچے کا جانور کو چھونا ضروری ہے یا نہیں ؟ کیا دوسرے گاؤں میں بھی جانور ذبح کر سکتے ہیں؟ اور ساتویں دن عقیقہ کا جانور ذبح کر دیں اور اسی دن بال نہ اُتارے اور تھوڑے دن کے بعد بال منڈ وائے تو کیا عقیقہ ہو جائے گا؟
Answer (beginning)
عقیقہ کے وقت بچی کا قریب ہونا یا جانور کو ہاتھ لگا نا شرط نہیں، ساتویں دن آپ اپنی بچی کا عقیقہ دوسرے گاؤں میں بھی کر سکتے ہیں، نیز ساتویں دن بال کٹوانا مستحب ہے تاہم اگر کسی نے ساتویں دن عقیقہ کیا لیکن بچی کے بال نہ مونڈے تب بھی عقیقہ ہو جائے گا۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم عام الاب الهاست Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net f daruliftaahlesunnat Darulifta Ahlesunnat Dar-ul-ifta AhleSunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.