Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بغیر وضو نماز پڑھنے کے بعد معلوم ہوا کہ وضو نہیں تھا تو کیا حکم ہے ؟
- Fatwa no.
- 723-Web
- Issued
- 25 ربیع الثانی 1444ھ/21 نومبر 2022ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کسی نے بے وضو نماز پڑھ لی اور اسے بعد میں معلوم ہوا کہ میر اوضو ہی نہیں تھا اور نماز کا وقت بھی ختم ہو چکا ہو ، تو کیا وہ نماز قضا کرنی ہو گی ؟
Answer (beginning)
بغیر وضو نماز پڑھی تو وہ نماز سرے سے ادا ہی نہیں ہوئی ہے کہ نماز کی بنیادی شرائط میں سے ایک شرط طہارت بھی ہے۔ لہذا بھول کر ایسا ہوا اور وقت باقی ہو تو وضو کر کے دوبارہ نماز پڑھی جائے اور وقت نکل جائے تو ایسی نماز فرض یا وتر ہونے کی صورت میں قضا کی نیت سے پڑھنا لازم ہے۔ نیز معاذ اللہ اگر جان بوجھ کر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ سخت گناہگار بھی ہو گا، بلکہ اگر نماز کی تحقیر کی نیت ہو تو اس صورت میں یہ کفر بھی ہو گا، لیکن کسی مسلمان سے ایسا تصور نہیں۔ بہار شریعت میں ہے : " نماز کے لیے طہارت ایسی ضروری چیز ہے کہ بے اس کے نماز ہوتی ہی نہیں بلکہ جان بوجھ کر بے طہارت نماز ادا کرنے کو علما کفر لکھتے ہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.