Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مسجد نبوی یا مسجدحرام میں بغیر سترہ نمازی کے سامنے سے گزرنا

Fatwa no.
564-Web
Issued
17 صفر المظفر 14/1444 اكتوبر 2022. سوال

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا مسجد نبوی میں نمازی کے آگے سے بغیر سترے کے گزر سکتے ہیں؟ اور کیا مسجد حرام میں طواف کے علاوہ نمازی کے آگے گزر سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

مسجد حرام اور مسجد نبوی شریف دونوں کبیر مساجد ( بڑی مساجد) میں سے ہیں، ان دونوں مساجد میں موضع سجود کے آگے سے بغیر سترہ کے بھی گزرنا جائز ہے البتہ موضع سجدہ تک بغیر سترے کے گزرنا جائز نہیں۔ موضع سجود سے مراد یہ ہے کہ خاشعین، یعنی ظاہری و باطنی آداب کی رعایت کرتے ہوئے مکمل توجہ کے ساتھ نماز پڑھنے والوں کی سی نماز پڑھنے میں قیام کی حالت میں سجدہ کی جگہ کی طرف نظر کریں، تو جتنی دور تک نگاہ جائے ، وہ موضع سجود ہے۔ اور یہ سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے بیان کردہ تجربے کے مطابق نمازی کے آگے تقریباً تین گزیک کا ایر یا بنتا ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.