Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
صرف غسل کے فرائض پورے کر لیے جائیں تو کیا غسل ہو جائے گا ؟
- Fatwa no.
- 719-Web
- Issued
- 19 ربیع الثانی 1444ھ /15نومبر 2022ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی غسل میں پورا وضو نہ کرے بلکہ صرف تین بار کلی اور تین بار ناک میں پانی چڑھا کر پورے جسم پر پانی بہا دے تو کیا غسل ہو جائے گا
Answer (beginning)
غسل کے شروع میں وضو کر نا سنت ہے، اگر کوئی غسل کے شروع میں مکمل وضو نہ کرے، بلکہ غسل کے تین فرائض ادا کر لیتا ہے ، تو ایسے شخص کا غسل ادا ہو جائے گا۔ غسل کے تین فرائض ہیں: (1) کلی کرنا ( کہ موٹھ کے ہر پرزے گوشے ہونٹ سے خلق کی جڑ تک ہر جگہ پانی بہ جائے ۔ ) (2) ناک میں پانی چڑھانا ( دونوں نقنوں کا جہاں تک ترم حصہ ہے دھلنا کہ پانی کو سونگھ کر اوپر چڑھائے ) (3) تمام ظاہر بدن یعنی سر کے بالوں سے پاؤں کے تلوؤں تک چشم کے ہر پرزے ہر رونگٹے پر پانی یہ جانا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.