Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
رکشہ یا ٹیکسی میں کرایہ فکس کیے بغیر سفر کرنا کیسا ؟
- Fatwa no.
- 716-Web
- Issued
- 01 جمادی الاول 1444ھ /26 نومبر 2022ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) رکشہ والے سواری کو بٹھاتے ہیں اور سفر کرنے والا معلوم کرتا ہے کہ کتنا کرایہ ہو گا، تو عام طور پر یہ کہہ دیتے ہیں جو مرضی ہو دے دینا، تو اس طرح کرنا کیسا ہے ؟
Answer (beginning)
رکشہ ، ٹیکسی وغیرہ میں بیٹھنے سے پہلے کرایہ طے کرنا ضروری ہے صرف یہ کہہ دینا کہ جو مرضی دے دینا کافی نہیں۔ لہذا سفر کرنے والے کو چاہیے کہ وہ پہلے ہی کرایہ فکس کرے ، اگر بغیر فکس کئے بیٹھ گئے اور کرایہ معلوم ہی نہیں تو یہ جائز نہیں ہو گا۔ ہاں اگر ایسی صورت ہو کہ کرایہ پہلے سے فکس اور فریقین کو معلوم ہے کہ فلاں جگہ جانے کا اتنا کرایہ ہو گا جیسے عام طور پر بسوں، ویگنوں یا روٹ پر چلنے والے چنگچی رکشوں کا کرایہ فکس ہوتا ہے اور سفر کرنے والے کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ فلاں اسٹاپ تک اتنا کرایہ ہو گا، تواب الگ سے طے کر ناضروری نہیں کیونکہ یہ انڈر سٹوڈ ہونے کی وجہ سے طے ہی ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.