Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ایک پاؤں کے موزے پر مسح کرنے کا کیا حکم ہے ؟

Fatwa no.
710-Web

Question

زید کے ایک پاؤں میں فالج ہے جب کہ دوسرا پاؤں صحیح ہے۔ زید دونوں پر چھڑے کے موزے پہنتا ہے، لیکن جب اسے گرمی محسوس ہوتی ہے تو 24 گھنٹے سے پہلے غیر فالج والے پاؤں سے موزہ اتار دیتا ہے لیکن فالج زدہ پاؤں کا موزہ نہیں اتارتا۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ ایک پاؤں کا موزہ اتارنے کے بعد 24 گھنٹے کے اندر دوبارہ جب وضو کی حاجت ہو تو کیا وہ فالج زدہ پاؤں کے موزے پر مسح کر سکتا ہے یا نہیں ؟

Answer (beginning)

شرعی اصولوں کے مطابق جب موزے پر مسح کرنے والا شخص کسی ایک پاؤں کا بھی موزہ اتار دے، تو اس کا مسبح ٹوٹ جاتا ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں ایک پاؤں کا موزہ اتارنے کے بعد دوسرے پاؤں کے موزے پر بھی مسح نہیں کیا جا سکتا، اس صورت میں وضو کے لیے دونوں پاؤں دھونا ضروری ہیں، اگر زید موزوں پر مسح کرنا چاہتا ہے تو دونوں پاؤں کے موزے پہن کر رکھے۔ در مختار میں موزوں کے مسح کو توڑنے والی چیزیں بیان کرتے ہوئے فرمایا: ” ( ونزع خف) ولو واحدا یعنی موزه کو اتار نا مسح توڑ دے گا) اگرچہ کسی ایک پاؤں کا موزہ اتاراہو۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.