Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نمازمغرب کی سنتوں میں تاخیرکا کیا حکم ہے ؟

Fatwa no.
552-Web
Issued
11 ربیع الاول 1444ھ/08 اکتوبر 2022ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) نماز مغرب میں اتنی تاخیر کہ تارے گتھ جائیں نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے ، اس وقت تک تاخیر میں کراہت محض فرائض کے اعتبار سے ہے یا مغرب کے فرض اول وقت میں پڑھ لئے اور مغرب کی سنتوں اور نفل میں تاخیر ہوئی ، تب بھی کراہت ہو گی؟

Answer (beginning)

مغرب کی نماز کا وقت شروع ہو جانے کے بعد اس میں دور کعت جتنے وقت سے زیادہ تاخیر کرنا مکروہ تنزیہی ہے اور بغیر عذر سفر و مرض اتنی تاخیر کرنا کہ ستارے گنتھ جائیں یعنی بڑے بڑے ستاروں کے علاوہ چھوٹے چھوٹے ستارے بھی چمک آئیں، تو یہ مکروہ تحریمی ہے۔ یہ کراہت مغرب کے فرض کی ادائیگی میں تاخیر کے اعتبار سے ہے ، اگر فرض جلد ادا کر لیے مگر سنتوں میں تاخیر کی تو کراہت تحریمی نہیں لیکن یادر ہے کہ فرضوں کے بعد سنتوں کی ادائیگی میں بلا وجہ تاخیر کرنا مکروہ تنزیہی ہے ، لہذا سنتوں میں بھی تاخیر نہ کی جائے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.