Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بے وضو شخص اپنا بے دھلا ہاتھ پانی میں ڈال دے تو کیا حکم ہے؟
- Fatwa no.
- 525-Web
- Issued
- 23 صفر المظفر 1444ھ / 20 ستمبر 2022ء
Question
دارالافتاءاہلسنت (دعوت اسلامی) اگر بے وضو شخص پانی میں بے دھلا ہاتھ ڈال دے تو اس سے وضو غسل کرنے کا کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
بے وضو شخص بلاشرعی مجبوری کے دو دردہ (1225 اسکوائر فٹ) سے کم ٹھہرے ہوئے پانی میں بے دھلا ہاتھ ڈال دے تو وہ پانی مستعمل ہو جاتا ہے اور ایسے پانی سے وضو اور غسل ادا نہیں ہوتے۔ اور اگر پانی دہ در دو سے زیادہ ہو یا بہتا ہوا پانی ہو اس میں بے وضو شخص ہاتھ ڈال دے تو وہ پانی مستعمل نہ ہو گا اس سے وضو یا غسل کرنا بھی جائز ہو گا۔ وَ اللهُ أَعْلَمُ عَدَدَ جَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم خام الام اهلات Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-ifta AhleSunnat fdaruliftaahlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net Darulifta…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.