Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

امام اگر احتیاطاً سجدہ سہو کرے تو کوئی حرج تو نہیں ہے؟

Fatwa no.
522-Web

Question

دارالافتاءاہلسنت (دعوت اسلامی) امام اگر احتیاطاً سجدہ سہو کرے تو کوئی حرج تو نہیں ہے؟

Answer (beginning)

سجدہ سہو اس وقت ہوتا ہے کہ جب نماز کا کوئی واجب بھولے سے رہ جائے، لہذا امام ہو یا مقتدی ہر ایک کو احتیاطاً سجدہ سہو کرنے سے بچنا ضروری ہے جب تک یقینی طور پر معلوم نہ ہوں کہ کسی واجب کا ترک ہو چکا ہے، کیونکہ بے حاجت سجدہ سہو کرنا نماز میں زیادتی ہے اور یہ شرعاً منع ہے۔ البتہ اگر کسی نے احتیاطاً سجدہ سہو کر لیا تو نماز ہو جائے گی، لیکن اگر امام پر سجدہ سہو واجب نہیں تھا اور اس نے احتیاط سجدہ سہو کیا تو مسبوق (یعنی جس کی ایک یا زائد رکھتیں رہ گئیں ) اگر اس سجدہ میں شریک ہوا تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی، لہذا امام صاحب پر لازم ہے کہ بلاوجہ سجدہ سہونہ فتاوی رضویہ شریف میں ہے : ” بے حاجت سجدہ سہو…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.