Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قریبی رشتہ دار کو تحفہ دے کر واپس لینا کیسا ہے ؟
- Fatwa no.
- 705-Web
- Issued
- 29 ربیع الثانی 1444ھ / 25 نومبر 2022ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) قریبی رشتہ دار کو تحفہ دینے کے بعد واپس لینا کیسا؟
Answer (beginning)
ایسا قریبی رشہ دار جوزی رحم محرم ہو یعنی نبی حرمت والا رشتہ موجود ہو جیسے بہن، بھائی ،ماں ، باپ، دادا، دادی وغیر ہ کو کوئی چیز تحفہ میں دے کر، ان کے قبضہ میں دے دی جائے، تو اب تحفہ میں دی ہوئی چیز واپس نہیں لے سکتا کہ یہاں قرابت رجوع سے مانع ہے ، جبکہ شرعی تقاضوں کے مطابق ہبہ تام ہو چکا ہو۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: "لا يرجع في الهبة من المحارم بالقرابة كالاباء والامهات۔۔وکذلک الاخوة والاخوات " ترجمہ: (ذی رحم) محارم والی قرابت جیسے ماں باپ بھائی بہن وغیرہ میں سے کسی کو ہبہ کرنے کے بعد رجوع نہیں کیا جاسکتا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.