Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جمعہ کی پہلی اذان جاری ہو اس میں خرید و فروخت کرنا کیسا ؟

Fatwa no.
703-Web
Issued
29 ربیع الثانی 1444ھ / 25 نومبر 2022 ء

Question

(دعوت اسلامی) جمعہ کی پہلی اذان کے بعد خرید و فروخت منع ہے تو اذان کے درمیان میں ( اذان جاری ہے ختم نہیں ہوئی ہے ) اگر کسی نے کچھ خرید لیا تو کیا یہ بھی گناہ ہو گا ؟

Answer (beginning)

جی ہاں ! جن افراد پر جمعہ لازم ہے ان کا جمعہ کی پہلی اذان کے دوران بھی خرید و فروخت کرنا گناہ ہے۔ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: " اذان جمعہ کے شروع سے ختم نماز تک بیچ مکروہ تحریمی ہے اور اذان سے مراد پہلی اذان ہے کہ اُس وقت سعی واجب ہو جاتی ہے۔ مگر وہ لوگ جن پر جمعہ واجب نہیں مثلاً عور تیں یا مریض ان کی بیع میں کراہت نہیں۔“ (بہار شریعت، جلد 2، صفحہ 723، مکتبۃ المدینه، کراچی) وَ اللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم Darulifta Ahlesunnat Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) دار الافتاء اهلسنت DARUL IFTA…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.