Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کمیشن پر کام کرنا اور سستی چیز لے کر مہنگی بیچنا کیسا ؟

Fatwa no.
544-Web

Question

(دعوت اسلامی) (1) کمیشن پر کام کرنا کیسا؟ (2) پراپرٹی ڈیلر کمیشن پر کام کرتے ہیں یہ کام کرنا کیسا؟ (3) پیچھے سے چیز ستی لے کر آگے مہنگی بیچنا کیسار ہنمائی فرمائیں۔

Answer (beginning)

(2-1) شرعی ضابطے پورے کرتے ہوئے کمیشن کے ذریعے روزی کمانے میں شرعا کوئی ممانعت نہیں ہے، کہ کمیشن یا بروکری وہ ذریعہ آمدنی ہے جس میں اپنی محنت کے ذریعے ایک سروس دی جاتی ہے اور یہ طریقہ آمدنی آج کا نہیں بلکہ صدیوں سے رائج ہے جس کو ہر دور کے علماء نے جائز ہی کہا۔ بعض لوگ رشوت کو بھی کمیشن بولتے ہیں۔ واضح رہے ! کہ اس طرح رشوت کو کمیشن بولنے سے ہر گزر شوت حلال نہ ہو گی بلکہ وہ حرام ہی رہے گی۔ (3) بیچنے والا اپنی چیز کا مالک ہے وہ جتنے کی چاہے بیچ سکتا ہے اس کیلئے یہ جائز ہے جبکہ خریدار کو دھوکا نہ دیا جائے، اور نہ اس سے جھوٹ بولا جائے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.