Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مذی جسم یا کپڑے پر لگی ہو، تو نماز کا حکم
- Fatwa no.
- 542-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر مذی جسم اور کپڑے پر لگی ہو تو نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟ وہ نماز ہو جائے گی یا جسم اور کپڑے کو پانی سے دھونا بھی لازمی ہے اس کے بعد نماز پڑھی جائے ؟
Answer (beginning)
اگر مندی جسم یا کپڑے پر ایک درہم کی مقدار سے زائد لگی ہو تو اس صورت میں نماز نہ ہوگی، اگر درہم کے برابر ہو تو نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہو گی، ان دونوں صورتوں میں اسے دھوئے بغیر جان بوجھ کر اسی حالت میں نماز پڑھنے والا گناہ گار ہو گا۔ ہاں اگر در ہم کی مقدار سے کم لگی ہو تو نماز ہو جائے گی لیکن ایسی نماز کو دو بار پڑھنا بہتر ہے۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَدَدَ جَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم دامالان اعلانات Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-ifta…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.