Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ناپاک کارپیٹ پر جائے نماز بچھا کر نماز پڑھنا
- Fatwa no.
- 540-Web
- Issued
- 13 ربیع الاول 1444ھ /10 اکتوبر 2022ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کار پیٹ نا پاک ہو جائے، تو اس پر جائے نماز بچھا کر نماز پڑھ سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
اگر کارپٹ نا پاک ہو جائے اور نجاست خشک ہو چکی ہو تو اس پر ایسا موٹا کپڑا بچھا کر نماز پڑھنا جائز ہے، جو نجاست کو جذب نہ کرے اور جس سے نجاست کا اثر اور بو وغیر ہ ظاہر نہ ہو۔ ردالمحتار میں ہے : "وكذا الثوب اذا فرش على النجاسة اليابسة فان كان رقيقا يشف ماتحتةاوتوجد منه رائحة النجاسة على تقديران لها رائحه لا تجوز الصلوة عليه وان كان غليظا بحيث لا يكون کذلک جازت“ یعنی اسی طرح کپڑا کہ جب وہ خشک نجاست پر بچھایا جائے تو اگر وہ باریک ہو کہ جو اپنے نیچے موجود نجاست کو جذب کرے تو یا اس میں بو والی نجاست ہونے کی صورت میں نجاست کی بو آئے تو اس نماز جائز نہیں اور اگر وہ کپڑا موٹا ہو اور ایسا نہ ہو تو اس پر…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.