Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

گھروں میں پارے تقسیم کر کے قرآن خوانی کرنا کیسا ؟

Fatwa no.
538-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) گھروں وغیرہ میں ختم قرآن کرنے میں پارے تقسیم کرتے ہیں جس کی وجہ سے ترتیب کا لحاظ نہیں ہوتا کبھی پہلے والا پارہ بعد میں بھی ختم ہو جاتا ہے اس طرح پڑھنا کیسا؟

Answer (beginning)

مختلف لوگوں میں پارے تقسیم کر کے ختم کروانا کہ بعد والے پارے کی تلاوت پہلے ہو جائے ، جائز ہے، اس صورت میں کسی کا پہلے ختم کرنا اور کسی کا بعد میں ختم کرنا اگرچہ بعد والا پارہ پہلے ختم کر لیا جائے یہ الٹا قرآن کریم پڑھنے کے حکم میں نہیں، لہذا اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَدَ جَل وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-ifta AhleSunnat fdaruliftaahlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net DaruliftaAhlesunnat

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.