Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سیب کے باغات میں عشر دینے کا کیا طریقہ ہے؟

Fatwa no.
684-Web
Issued
26 ربیع الثانی 1444ھ / 22 نومبر 2022 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا سیب کے باغات پر بھی عشر دینا لازم ہے ؟ اور اگر لازم ہے، تو ان باغات میں استعمال ہونے والی دوائیوں اور کھاد کے اخراجات مائنس کر کے عشر نکالیں گے یا ان اخراجات کو مائنس کیے بغیر ہی عشر لازم ہو گا؟

Answer (beginning)

سیب کی پیداوار پر بھی عشر یا نصف عشر لازم ہے۔ کب عشر اور کب نصف عشر لازم ہو گا، اس کے متعلق بہار شریعت میں ہے: ” جو کھیت بارش یا نہر نالے کے پانی سے سیراب کیا جائے، اس میں عشر یعنی دسواں حصہ واجب ہے اور جس کی آبپاشی چھ سے یاڈول سے ہو، اس میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ واجب اور پانی خرید کر آبپاشی ہو یعنی وہ پانی کسی کی ملک ہے، اس سے خرید کر آبپاشی کی جب بھی نصف عشر واجب ہے اور اگر وہ کھیت کچھ دنوں مینھ کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے اور کچھ دنوں ڈول چر سے سے تو اگر اکثر مینھ کے پانی سے کام لیا جاتا ہے اور کبھی کبھی ڈول چر سے سے تو عشر واجب ہے ، ورنہ نصف عشر ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.