Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

احرام میں لبیک اللهم لبیک کے ورد کی مدت اور حکم

Fatwa no.
530-Web
Issued
08, بیع الاول 1444ھ /105اکتوبر 2022ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا تلبیہ یعنی لبیک اللھم لبیک کاور دحج کی طرح عمرے کے احرام میں بھی ہر وقت کیا جائے گا؟

Answer (beginning)

جی ہاں ! عمرے کے احرام میں بھی اس کا خوب ورد کرنا چاہیے۔ واضح رہے کہ احرام کی نیت کرنے کے بعد کم از کم ایک مر تبہ لبیک کہنا لازم اور تین مرتبہ کہنا افضل ہے۔ فتاوی عالمگیری میں احرام کی شرائط و غیرہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”لبیک اللھم لبیک لبیک لا شریک لک الخ وهى مرة شرط والزيادة سنة، يعنی لبیک اللهم لبیک لبیک لا شریک لک آخر تک ایک مرتبہ کہنا شرط اور زیادہ کہنا سنت ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.