Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد میں کیا تمام موجودہ انسان شامل ہیں ؟
- Fatwa no.
- 683-Web
- Issued
- 26 ربیع الثانی 1444ھ /22 نومبر 2022 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا موجودہ دور کے سب انسان حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد ہیں ؟
Answer (beginning)
جی ہاں ! موجودہ دور کے سب انسان حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد سے ہیں، اس لیے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی میں سوار 80 افراد کے علاوہ دنیا میں کوئی بھی انسان باقی نہیں رہا تھا اور کشتی میں سوار 80 افراد کی نسل آگے نہیں چلی، صرف حضرت نوح علیہ السلام کی نسل چلی، اسی لیے آپ علیہ السلام کو آدم ثانی کہا جاتا ہے۔ ملفوظات اعلی حضرت میں ہے : پسماندگان طوفان سے کسی کی نسل نہ بڑھی صرف نوح علیہ السلام کی نسل تمام دنیا میں ہے۔ قرآن عظیم فرماتا ہے: وَجَعَلْنَا ذُريَّتَهُ هُمُ الْبقِينَ (2) ترجمہ کنز الایمان : اور ہم نے اس کی اولاد باقی رکھی۔ (پ ۲۳، الصافات : ۷۷)۔ اس لئے انہیں آدم ثانی کہتے ہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.