Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز میں انگلیاں چٹخانا کیسا
- Fatwa no.
- 681-Web
- Issued
- 26 ربیع الثانی 1444ھ / 22 نومبر 2022 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر نماز میں انگلیاں چٹھا ئیں تو کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
نماز میں انگلیاں چٹخانا مکروہ تحریمی ،ناجائز و گناہ ہے۔ جس نماز میں ایسا عمل کیا، تو بہ کرنے کے ساتھ ساتھ وہ نماز بھی دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔ فتاوی فقیہ ملت میں ہے: " نماز میں انگلیاں چٹکانا بھی مکروہ تحریمی ہے۔ حدیث شریف میں ہے: لا تفرقع اصابعک وانت فی الصلاۃ۔ یعنی جب تم نماز کی حالت میں ہو تو انگلیاں نہ چٹکاؤ (سنن ابن ماجہ)۔۔۔۔ اور جن صورتوں میں نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے، ان نمازوں کا دہر انا واجب ہوتا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.