Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بھیک مانگ کر صدقہ کرنے کی منت ماننے کا حکم

Fatwa no.
509-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک عورت نے منت مانی کہ اگر میرے ہاں کوئی اولاد ہوئی، تو میں بہتر (72) لوگوں سے بھیک مانگ کر نیاز کروں گی، پھر اس کو اللہ پاک نے بیٹے سے نوازا اور اب وہ لوگوں سے پیسے مانگ رہی ہے۔ اس کے بھیک مانگنے اور اسے بھیک دینے کا شرعی حکم کیا ہے ؟

Answer (beginning)

شرعی ضرورت کے بغیر بھیک مانگنا، ناجائز و گناہ ہے اور گناہ کی منت مانا گناہ اور اس پر عمل کرنا بھی گناہ ہے۔ نیز جسے سوال ( یعنی مانگنا) حلال نہیں اسے اس کے سوال پر دینا بھی جائز نہیں۔ ناجائز کام کی منت ماننا جائز نہیں، اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: "لا نذرفی معصیۃ۔ “ یعنی گناہ کے کام میں نذر نہیں۔“ (سن الترمذی، کتاب النذور والأيمان،الحديث:1524،دارالكتب العلمية ، بیروت) سیدی اعلیٰ حضرت رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ” فقیر بن کر بلا ضرورت و مجبوری بھیک مانگنا حرام، کما نطقت به أحاديث مستفيضة (جيسا کہ بہت سی مشہور و معروف حدیثیں اس معنی پر ناطق ہیں ) اور ایسوں کو…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.