Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نماز پڑھنے کے بعد یاد آیا کہ وضو نہیں تھا، تو کیا حکم ہے ؟

Fatwa no.
497-Web
Issued
22 صفر المظفر 1444ھ /19 ستمبر 2022ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) بے وضو اگر کوئی نماز پڑھ لے بعد میں یاد آئے کہ وضو تو تھا نہیں تو اب وہ کیا کرے ؟ اگر اسی نماز کا وقت ابھی باقی ہو تو دوبارہ پڑھ لے ؟ اور اگر وقت نکل چکا ہو تو کیا قضا پڑھے؟

Answer (beginning)

بغیر وضو نماز پڑھی تو وہ نماز سرے سے ادا ہی نہیں ہوئی ہے کہ نماز کی بنیادی شرائط میں سے ایک شرط طہارت بھی ہے۔ لہذا بھول کر ایسا ہوا اور وقت باقی ہو تو وضو کر کے دوبارہ نماز پڑھی جائے اور وقت نکل جائے تو ایسی نماز فرض یا وتر ہونے کی صورت میں قضا کی نیت سے پڑھنا لازم ہے۔ نیز معاذ اللہ جان بوجھ کر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ سخت گناہ گار بھی ہو گا، بلکہ اگر نماز کی تحقیر کی نیت ہو تو اس صورت میں یہ کفر بھی ہو گا لیکن کسی مسلمان سے ایسا تصور نہیں۔ بہارِ شریعت میں ہے: ”نماز کے لیے طہارت ایسی ضروری چیز ہے کہ بے اس کے نماز ہوتی ہی نہیں بلکہ جان بوجھ کر بے طہارت نماز ادا کرنے کو علما کفر لکھتے ہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.