Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیاخشک مذی کو کھرچ کر پاک کیا جا سکتا ہے
- Fatwa no.
- 494-Web
- Issued
- 22 صفر المظفر 1444ھ /19 ستمبر 2022ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا خشک مذی وغیرہ کو کپڑے سے کھرچ دینے سے کپڑا پاک ہو جائے گا؟ یا کھرچ کر پاک کرنے کا حکم صرف منی لیے ہے؟
Answer (beginning)
یہ حکم صرف خشک منی کے ساتھ خاص ہے، منڈی پیشاب وغیر ہ اگر چہ خشک ہو جائیں انہیں کھرچ کر کپڑا پاک نہیں ہو گا، کپڑا پاک کرنے کے لیے شرعی اصولوں کے مطابق کپڑے کو دھونا ضروری ہے۔ ردالمحتار میں بحر سے منقول ہے: ” طهارة الثوب بالفرك انما هو فى المنى لا فی غیرہ “ یعنی رگڑنے سے کپڑے پاک ہونے کا حکم صرف منی میں ہی ہے ، اس کے علاوہ نجاستوں کے لیے یہ حکم نہیں ہے۔ (ردالمحتار جلد 1، صفحہ 566 ، مطبوعہ: کوئٹه) مجمع الا نر ، مبسوط ، جوہرہ نیرہ، بنا یہ نہر الفائق وغیرہ میں ہے: ”والمندی لا یطھر بالفرک“ یعنی منی رگڑنے سے پاک نہیں ہوتی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.