Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اگر حمل ضائع ہوجائے تو کیا اس کا نام رکھنا ہوگا؟
- Fatwa no.
- 489-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) چالیس دن کا حمل ہو ، پھر وہ ضائع ہو جائے، تو کیا اس کا نام رکھنا ہو گا ؟
Answer (beginning)
بچہ زندہ پیدا ہو ایا مردہ، اس کی خلقت تمام ہو یا نا تمام بہر حال اس کا نام رکھا جائے۔ اور جس کچے بچے کے متعلق علم نہ ہو کہ لڑکا تھا یا لڑکی تو اس کا ایسا نام رکھا جائے جو لڑکے اور لڑکی دونوں کے لیے رکھا جا سکتا ہو۔ جیسے ممتاز، شیم ، اختر وغیرہ۔ یہ نام لڑکے اور لڑکی دونوں کے لیے رکھے جاتے ہیں۔ ردالمحتار میں ہے: ” روی: اذا ولد لاحدكم ولد فمات فلا يدفنه حتى يسميه، ان كان ذكر اباسم الذكر وان كان انتي باسم انثى وان لم يعرف فباسم يصلح لهما “ یعنی مروی ہے کہ جب تم میں سے کسی کے ہاں بچہ کی ولادت ہو اور وہ فوت ہو جائے، تو وہ اس کو دفن نہ کرے یہاں تک کہ اس کا نام رکھ دے، اگر لڑکا ہے ، تو لڑکے کا نام،…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.