Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
آستینوں کے اوپر سے پانی بہا لینے کی صورت میں وضو کا حکم
- Fatwa no.
- 485-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی کی آستینیں بہت ٹائٹ ہوں اور وہ اس کے اوپر سے ہی پانی بہائیں، تو کیا ان کا وضو ہو جائے گا؟
Answer (beginning)
اگر کہنیوں سمیت دونوں ہاتھ مکمل اس طرح دھل جائیں کہ ہر ہر بال پر کم از کم دو دو قطرے بہہ گئے تو وضو ہو جائے گا اور اگر کوئی حصہ صرف بھیگ گیا اور وہاں دو قطرے پانی نہ جسے تو وضو نہیں ہو گا۔ یہ بھی یاد رہے کہ کم از کم دو قطرے بہہ جانا، اس سے فرض ادا ہو جائے گا مگر وضو میں تثلیث یعنی اعضائے وضو کو تین تین بار دھونا سنت مؤکدہ ہے اور سنت مؤکدہ کے ترک کی عادت گناہ ہے لہذا آستینیں چڑھا کر باقاعدہ پانی بہایا جائے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.