Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
قرض دی ہوئی رقم کی زکاۃ کیسے ادا کی جائے ؟
- Fatwa no.
- 484-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) قرض کی رقم کا خمس ( یعنی پانچواں حصہ) ملنے پر زکوۃ واجب الادا ہوتی ہے یا نصاب کا خمس ملنے پر ؟ مثلاً : زکاۃ کا نصاب 80 ہزار روپے ہو، لیکن کسی کے پاس 60 ہزار روپے نقد موجود ہیں اور 20 ہزار روپے اس نے کسی کو قرض دیا ہوا ہے۔ اس صورت میں سال پورا ہونے پر تو 60 ہزار روپے کی رقم تو فوراً ادا ہو گی، لیکن 20 ہزار روپے جو قرض دیئے ہوئے ہیں، ان میں سے کتنی رقم واپس ملنے پر زکاۃ واجب ہو گی ؟
Answer (beginning)
جور تم کسی کو قرض دی ہو ، اس پر بھی سال بسال زکوۃ فرض ہوتی رہے گی، جبکہ زکوۃ کی شرائط پائی جائیں، البتہ ادائیگی اس وقت واجب ہو گی جب مقدار نصاب یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کا کم از کم پانچواں حصہ وصول ہو جائے، پانچواں حصہ وصول ہو جانے پر اس کی گزشتہ تمام سالوں کی زکوۃ ادا کر دینا واجب ہے اور اگر پورا قرض ایک ساتھ وصول ہو گیا، تو تمام سالوں کی پوری زکوۃ ایک ساتھ ادا کرناواجب ہو گیا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.