Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
رشتہ داروں کا میت کے گھر والوں کے لئے کھانا لانا کیسا
- Fatwa no.
- 481-Web
Question
جن کے گھر میت ہوئی ہو ، وہ صدمہ کی وجہ سے کھانا نہیں بنا پاتے ، تو اکثر رشتہ دار پکا ہوا کھانا لا کر دیتے ہیں، یہ کھانا دعوت کے طور پر نہیں ہوتا، بلکہ میت کے گھر والوں کے کھانے کے لئے ہوتا ہے۔ میت کے گھر والوں کا یہ کھا نالینا اور کھانا کیسا؟
Answer (beginning)
پہلے دن صرف میت کے گھر والوں کے لیے ان ہی کے مناسب کھانا دینا ثواب کا کام ہے اور انہیں کھانا بھی جائز ہے۔ ہاں، باقی جمع ہونے والے لوگوں کے لیے کھانا نہ بھیجا جائے۔ بہار شریعت میں ہے: "میت کے پڑوسی یا دور کے رشتہ دار اگر میت کے گھر والوں کے لیے اُس دن اور رات کے لیے کھانالائیں، تو بہتر ہے اور انہیں اصرار کر کے کھلائیں۔۔۔ میت کے گھر والوں کو جو کھانا بھیجا جاتا ہے یہ کھاناصرف گھر والے کھائیں اور انہیں کے لائق بھیجا جائے، زیادہ نہیں اور وں کو وہ کھانا، کھانا منع ہے اور صرف پہلے دن کھانا بھیجنا سنت ہے، اس کے بعد مکروہ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.