Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سجدۂ سہو کے بعد نماز میں پھر سہو ہوجائے،توکیاحکم ہے؟

Fatwa no.
480-Web

Question

گا۔ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میرا سوال ہے کہ اگر سجدہ سہو کے بعد پھر نماز میں کوئی سہو ہو جائے تو اس صورت میں کیا کریں؟

Answer (beginning)

اگر سجدہ سہو میں یا اس کے بعد مزید کہو ہو جائے، تو دوبارہ سجدہ سہو لازم نہ ہو گا، پہلے والا سجدہ سہو ہی کافی ہو جائے تحفۃ الفقہاء میں ہے: ولوسها في سجود السهولا يجب عليه السهولأن تكرارسجودالسهوغير مشروع لأنه لا حاجة لأن السجدة الواحدة كافية على ماقال عليه السلام سجدتان تجزئان عن كل زيادة و نقصان ترجمہ : اگر کسی کو سجدۂ سہو میں سہو ہوا تو اس پر مزید کوئی سجدۂ سہو واجب نہ ہو گا کیونکہ سجدۂ سہو کا تکرار مشروع نہیں ہے، کیونکہ اس کی حاجت نہیں کہ ایک مرتبہ سجدہ سہو ہی کافی ہے جیسا کہ حضور علیہ وعلی آلہ الصلوۃ والسلام کا ارشاد ہے: دو سجدے نماز میں ہونے والی ہر کمی زیادتی کی طرف سے کفایت کرتے ہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.