Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

چمڑے کے موزوں میں پانی داخل ہوگیا،تو مسح کا کیاحکم ہے؟

Fatwa no.
471-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) چھڑے کے موزوں پر مسح کیا پھر اسے پہن کر پانی کی بالٹی میں پاؤں ڈالا جس سے پانی پاؤں میں داخل ہو گیا، کیا اس سے مسح ٹوٹ جائے گا؟

Answer (beginning)

چھڑے کے موزوں میں کسی نے پانی داخل کیا یا پانی کسی وجہ سے داخل ہو گیا اور اس پانی سے آدھے سے زیادہ پاؤں د حمل گیا تو مسح ٹوٹ جائے گا۔ در مختار میں ہے: ” ينتقض بغسل اكثر الرجل فيه) لودخل الماء خفہ “ یعنی پاؤں کا اکثر حصہ ڈھل جانے سے بھی مسح ٹوٹ جائے گا جبکہ پانی موزے میں داخل ہو گیا ہو۔ رد المحتار میں اس کے تحت فرمایا: " في بعض النسخ : ادخل ولا فرق بينهما في الحكم كما افاده ح یعنی بعض نسخوں میں "دخل " کی جگہ " ادخل" ہے، لیکن حکم کے معاملہ میں دونوں میں کوئی فرق نہیں، جیسا کہ امام حلبی نے افادہ فرمایا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.