Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تنہا نفل نماز پڑھنے والے کے لئے سری و جہری قراءت کا حکم

Fatwa no.
381-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) یہ قاعدہ بیان کیا جاتا ہے کہ منفرد کو دن کے نوافل میں سری قرات کرنی چاہیے اور رات کے نوافل میں جہری قرات کرنی چاہیے ، کیا اس پر عمل کرنا ضروری ہے یا اس کو اختیار ہے کہ جس طرح چاہے قرات کرے؟

Answer (beginning)

منفرد کے لئے دن کے نوافل میں سری قرات واجب ہے ، لہذا اسے دن کے نوافل میں سری قراءت کرناہی ضروری ہے، البتہ رات کے نوافل میں منفرد کو اختیار ہے، چاہے سری قراءت کرے یا جہری قراءت کرے۔ بحر الرائق میں ہے: "المتنفل بالنهار يجب عليه الاخفاء مطلقا والمتنفل بالليل مخير بين الجهر والاخفاء ان كان منفردا یعنی دن میں نوافل پڑھنے والے کو مطلقا سری قراءت کرنا واجب ہے اور رات میں نوافل پڑھنے والا اگر منفر د ہے، تو اسے سری اور جہری دونوں طرح قراءت کا اختیار ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.