Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سلام پھیرے بغیر سجدہ سہو کرنے کا حکم

Fatwa no.
367-Web
Issued
23 ذو الحجۃ الحرام 1443ھ / 23 جولائی 2022 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) نماز پڑھتے ہوئے سجدہ سہو واجب ہوا، مگر سجدہ سہو کرنے کے وقت سلام پھیرنا بھول گیا اور صرف دو سجدے کر لیے ، کیا یہ نماز ہو گئی؟

Answer (beginning)

سلام کے بغیر سجدہ سہو کے سجدے کر لیے، تو بھی نماز ہو جائے گی، مگر ایسا کرنا مکروہ تنزیہی ہے۔ ر مختار میں ہے: ”ولو سجد قبل السلام جاز و کره تنزیها “ ترجمہ : اگر سلام سے پہلے سجدے کر لیے ، تو جائز اور مکروہ تنزیہی ہے۔ (در مختار، کتاب الصلاة، باب سجود السهو، جلد 2، صفحہ 653، کوئٹہ) 66 بہار شریعت میں ہے: "اگر بغیر سلام پھیرے سجدے کر لیے کافی ہیں مگر ایسا کرنا مکروہ تنزیہی ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.