Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
میت کے بال مونڈنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 168-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا غسال ( میت کو غسل دینے والا ) میت کے بڑھے ہوئے بغل کے بال مونڈ سکتا ہے؟
Answer (beginning)
غسال کامیت کی بغل و غیرہ کے بال مونڈنا مکروہ تحریمی نا جائز و گناہ ہے اس لیے غسل دینے والے پر لازم ہے کہ حکم شریعت پر عمل کرتے ہوئے میت کے بال ہر گز نہ کاٹے۔ تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے: " لا يقص ظفرہ ولا شعرہ " یعنی: میت کے ناخنوں اور بالوں کو نہیں کاٹا جاسکتا۔ (تنویر الابصار مع الدر المختارجلد3صفحه104مطبوعه كوئئه) بدائع الصنائع میں ہے : " ولا ينتف ابطہ " یعنی میت کی بغل کے بالوں کو نہیں اکھاڑا جائے گا۔ (بدائع الصنائع جلد 1 صفحه 301، مطبوعہ کراچی) فتاوی رضویہ میں امام اہل سنت سیدی اعلی حضرت قدس سرہ العزیز سے سوال ہوا کہ کاشنامر دے کے بال، بعد 66 مرنے کے جائز ہے یا نہیں؟
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.