Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کرسی پربیٹھ کرنماز پڑھنے والا کیا امامت کروا سکتا ہے یا نہیں؟

Fatwa no.
155-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے والا امامت کرواسکتا ہے؟

Answer (beginning)

کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھانے والا شخص اگر رکوع و سجود ادا کر رہا ہے (یعنی زمین پر یاز مین سے بلند بارہ انگل ( تقریباً (انچ) کی کسی چیز پر سجدہ کر رہا ہو) تو اس کے پیچھے رکوع و سجود ادا کرنے والوں کی نماز ادا ہو جائے گی اور اگر وہ اشارے سے رکوع و سجود ادا کر ررہا ہے تو اس کے پیچھے رکوع و سجود ادا کرنے والوں کی نماز ادا نہیں ہو گی۔ بہار شریعت میں ہے: ”جو رکوع و سجود سے عاجز ہے یعنی وہ کہ کھڑے یا بیٹھے رکوع و سجود کی جگہ اشارہ کرتا ہو ، اس کے پیچھے اس کی نماز نہ ہو گی جور کوع و سجود پر قادر ہے اور اگر بیٹھ کر رکوع و سجود کر سکتا ہو تو اس کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی ہو جائے گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.