Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اپنی رہائش گاہ پر آکر حلق یا تقصیر کروانا کیسا؟

Fatwa no.
469-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہم نے سنا ہے کہ عمرہ مکمل ہونے کے بعد مرد اور عورت جب تقصیر کریں گے ، تو اپنی رہائش گاہ پر آکر نہیں کرنی بلکہ باہر ہی کرنی ہے ، جبکہ اس صورت میں اگر عورت وہاں تقصیر کرتی ہے ، تو اس کے بال ننگے ہونے کے بھی مسائل ہیں۔ اس حوالے سے کیا حکم شرع ہے؟ حلق و

Answer (beginning)

و تقصیر حدود حرم میں کرناضروری ہے ، عمو ماحج و عمرہ کی ادائیگی کے وقت رہائش گاہ حدود حرم میں ہوتی ہے، اگر رہائش گاہ حدود حرم میں ہی ہو تو وہاں حلق و تقصیر کر سکتے ہیں ، شرعا کوئی ممانعت نہیں۔ مناسک ملا علی قاری میں حلق و تقصیر کا مکان بیان کرتے ہوئے فرمایا: ( والمكان الحرم ) اى للحج والعمرة يعنى عمرہ اور حج میں حلق و تقصیر کی جگہ حرم مخصوص ہے۔ (مناسک ملاعلی قاری، صفحہ 325، مطبوعہ مکة المکرمة) رد المحتار میں ہے: " (حلق فی حل بحج او بعمرة) اى يجب دم لو حلق للحج أو العمرة في الحل لتوقته بالمکان “ یعنی کسی شخص نے حج یا عمرہ میں مقام حل میں حلق کروایا تو دم واجب ہو جائے گا کیونکہ حلق کے لیے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.