Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ناپاک تیل سے نجس ہونے والا کپڑا دھویا لیکن چکناہٹ ختم نہ ہوئی تو کیا حکم ہے
- Fatwa no.
- 465-Web
Question
ہوئی تو کیا حکم ہے دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) گھر کے استعمال کا تیل کسی وجہ سے ناپاک ہو گیا تھا، پھر وہ کپڑے پر گر گیا، کپڑے کو دھو یا لیکن اس کے باجو د اس کی چکناہٹ ختم نہیں ہوئی، تو اس کپڑے کو کتنی بار دھونا ہو گا ؟
Answer (beginning)
اگر کپڑا پاک کرنے کے اصولوں کے مطابق اس کپڑے کو دھو کر پاک کیا اور نجاست زائل ہو گئی تو یہ کپڑا پاک ہو جائے گا، صرف چکناہٹ کے باقی رہنے سے اس پر ناپاکی حکم نہیں ہو گا البتہ مردار کی چربی کپڑے پر لگ جائے تو اسے پاک کرنے کے لیے چکنائی بھی دور کرناضروری ہے۔ بہار شریعت میں ہے: ” کپڑے یا بدن میں ناپاک تیل لگا تھا، تین مرتبہ دھو لینے سے پاک ہو جائے گا۔ اگر چہ تیل کی چکنائی موجود ہو ، اس تکلف کی ضرورت نہیں کہ صابون یا گرم پانی سے دھوئے لیکن اگر مردار کی چربی لگی تھی، تو جب تک اس کی چکنائی نہ جائے پاک نہ ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.