Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جسم کےغیر ضروری بال صاف کرنے کے بعد غسل کا حکم

Answered by
محمد سجاد عطاری مدنی
Fatwa no.
460-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا جسم کے غیر ضروری بال صاف کرنے کے بعد غسل واجب ہوتا ہے ؟ کیا بال صاف کرنے کے بعد غسل کئے بغیر نماز پڑھ سکتے ہیں؟

Answer (beginning)

جسم کے غیر ضروری بال (موئے زیر ناف بغل وغیرہ کے بال صاف کرنا موجبات غسل ( یعنی غسل واجب کرنی والی چیزوں) میں سے نہیں ہے ،لہذا ان کو صاف کرنے پر غسل واجب نہ ہو گا۔ یعنی ان بالوں کو صاف کرنے کے بعد غسل کرناضروری نہیں ہے بلکہ با طہارت ( یعنی وضو کر کے ) نماز و دیگر عبادات کی ادائیگی کرنا لا حرج درست ہے جب یک غسل واجب کرنے والی کوئی اور چیز نہ پائی جائے۔ نوٹ: جسم کے کون سے بال کاٹنا مباح ہیں، کون سے سنت ہیں اور کون سے منع ہے، اس سے متعلق تفصیلی احکام جاننے کے لئے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ فقہ حنفی کی شہرہ آفاق کتاب ”بہارِ شریعت، حصہ 16، صفحہ 584 تا 585“ ملاحظہ فرمائیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.