Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

پیدا ہونے والے بچہ کی ختنہ کروانے کا حکم

Fatwa no.
455-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) پیدا ہونے والے بچہ کی ختنہ کروانے کی اسلام میں کیا حیثیت ہے؟

Answer (beginning)

ختنہ شعائر اسلام میں سے ایک نفیس سنت عمل ہے، جس کے ذریعے مسلم اور غیر مسلم کے مابین امتیاز ہو جاتا ہے۔ ختنے کی کم از کم مدت 7 سال ہے، یعنی جب بچہ 7 سال کا ہو جائے، تو سنت طریقہ یہ ہے کہ اس کا ختنہ کروایا جائے، اور زیادہ سے زیادہ مدت 12 سال ہے کہ ختنہ کروانے میں اس سے زیادہ تاخیر کرناشر عاممنوع ہے، البتہ اگر کسی نے بچے کی پیدائش کے ساتویں دن کے بعد (یعنی 7 سال سے پہلے ) ختنہ کروالیا، تو یہ منع نہیں ہے۔ بہارِ شریعت میں ہے: ”ختنہ سنت ہے اور یہ شعارِ اسلام میں ہے کہ مسلم و غیر مسلم میں اس سے امتیاز ہوتا ہے اسی لیے عرف عام میں اس کو مسلمانی بھی کہتے ہیں ...

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.