Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بچے کے کان میں اذان دینے کا طریقہ
- Fatwa no.
- 448-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) بچے کے کان میں اذان واقامت ایک ایک بار کہنی چاہیے یا تین بار ؟ یہ بھی بتادیں کہ حی علی الصلوۃ اور حی علی الفلاح میں نماز والی اذان کی طرح سیدھی اور الٹی طرف پھر نا ضروری ہے یا نہیں ؟
Answer (beginning)
جب بچہ پیدا ہو تو اس کے کان میں اذان واقامت کہنا مستحب ہے ۔ بہتر یہ ہے کہ دائیں (سیدھے) کان میں چار مرتبہ اذان اور بائیں میں تین مرتبہ اقامت کہی جائے۔ یادر ہے جس طرح نماز وغیرہ کے لیے اذان واقامت میں حی علی الصلوۃ کہتے ہوئے سیدھی طرف اور حی علی الفلاح کہتے ہوئے الٹی طرف منہ پھیرتے ہیں یونہی بچے کے کان میں اذان واقامت کے وقت بھی منہ پھیرنے کا حکم اسی طرح ہے۔ بہار شریعت میں ہے: ” جب بچہ پید اہو تو مستحب یہ ہے کہ اس کے کان میں اذان واقامت کہی جائے۔ ا اذان کہنے سے ان شاء اللہ تعالٰی بلائیں دور ہو جائیں گی۔ بہتر یہ ہے کہ داہنے کان میں چار مرتبہ اذان اور بائیں 66 میں تین مرتبہ اقامت کہی جائے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.