Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
توجہ بٹانے والی چیز کا تدارک کئے بغیر نماز پڑھنے کا حکم
- Fatwa no.
- 447-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) نماز میں نمازی کی توجہ بٹانے والی کوئی چیز یا وجہ ہو جیسے ڈیزائن والی جائے نماز اور نمازی اس کا تدارک کئے بغیر نماز شروع کر دے، تو نماز مکروہ تحریمی ہو گی یا تنزیہی ؟
Answer (beginning)
عموماً جائے نماز کا صرف ڈیزائن والی ہو نا نماز میں توجہ بٹنے کا سبب نہیں بنتا، البتہ اگر ایسے ڈیزائن ہوں، جن سے نمازی کی توجہ ہٹے ، تو ایسے حالت میں نماز پڑھنا مکروہ تنزیہی ہے یعنی گناہ و ناجائز تو نہیں، مگر اس سے بچنا بہتر ہے، کیونکہ ایسی چیز کے سامنے نماز پڑھنا مکروہ ہے جو دل کو مشغول کرے اور نماز جیسی اہم ترین عبادت میں اس طرح کی غفلت کسی طرح مناسب نہیں ہے۔ مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں ہے: ” (و) تکرہ بحضرة كل (ما يشغل البال) كزينة“ یعنی ہر ایسی چیز کے سامنے نماز مکر وہ ہے جو دل کو مشغول کرے جیسے زینت والی کوئی چیز ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.