Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ماں اگر بیٹے کو پکارے اور بیٹا نماز پڑھ رہا ہو، تو کیا حکم ہے
- Fatwa no.
- 446-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) بہت بار یہ بات سنی ہے کہ اگر ماں پکارے اور بیٹا نماز پڑھ رہا ہو ، تو نماز توڑ کر جائے۔ کیا اس صورت میں فرض نماز کو بھی توڑا جائے گا ؟ اور کیا یہ حکم موبائل پر ماں کی کال آنے کا بھی ہو گا ؟
Answer (beginning)
عام حالت میں یہ حکم صرف نفل نماز کا ہے اور وہ بھی اس صورت میں جبکہ ماں باپ کو معلوم نہ ہو کہ بیٹا نماز پڑھ رہا ہے اور آواز دیں، تو نماز توڑ کر ، جواب دیا جائے، مگر بعد میں ان نفلوں کو دوبارہ پڑھناواجب ہے۔ موبائل کال کا یہ حکم نہیں۔ بہار شریعت میں ہے: ”ماں باپ، دادا دادی و غیر ہ اصول کے محض بلانے سے نماز قطع کرناجائز نہیں، البتہ اگر ان کا پکار نا بھی کسی بڑی مصیبت کے لیے ہو ، جیسے اوپر مذکور ہوا، تو توڑ دے، یہ حکم فرض کا ہے اور اگر نفل نماز ہے اور ان کو معلوم ہے کہ نماز پڑھتا ہے، تو ان کے معمولی پکارنے سے نماز نہ توڑے اور اس کا نماز پڑھنا انہیں معلوم نہ ہو اور پکارا تو ، توڑ دے اور جواب دے،…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.