Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
وتر کی تیسری رکعت میں سورۂ فاتحہ پڑھ کے بھولے سے رکوع کر لیا، تو کیا حکم ہے؟
- Fatwa no.
- 490-Web
Question
لیا، تو حکم ہے دارالافتاءاہلسنت (دعوت اسلامی) وتر کی تیسری رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھ کے بھولے سے رکوع کر لیا، تو حکم ہے ؟
Answer (beginning)
وتر کی تیسری رکعت میں بھی مطلقاً قراءت کرنا فرض ہے جبکہ مکمل سورہ فاتحہ کے بعد سورت ملانا یا قرآن پاک کی ایک بڑی آیت جو تین چھوٹی آیتوں کے برابر ہو یا تین چھوٹی آیتیں پڑھنا، نیز دعائے قنوت پڑھناواجب ہے۔ سورن ملانا بھول گیا اور اسی رکعت کے رکوع میں یار کوع کے بعد سجدے میں پہنچنے سے پہلے یاد آگیا، تو واجب ہے کہ قیام کی طرف لوٹے اور سورت ملا کر دعائے قنوت پڑھنے کے بعد دوبارہ رکوع کرے، پھر نماز کے آخر میں سجدہ سہو کرے، اگر دوبارہ رکوع نہ کیا تو نماز نہیں ہو گی اور اگر سجدے سے پہلے یاد آنے کے باوجو د سورت کے لیے نہ لوٹا، تو قصداً ترک واجب لازم آنے کی وجہ سے گناہگار ہو گا اور توبہ کرنے کے ساتھ ساتھ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.