Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دعائے قنوت پڑھنا بھول جائیں تو کیا نماز دوبارہ پڑھنی ہوگی
- Fatwa no.
- 442-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص وتر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھنا بھول جائے، تو کیا اسے وتر کی نماز دوبارہ پڑھنی ہو گی ؟
Answer (beginning)
وتر میں دعائے قنوت پڑھنا واجب ہے، اگر بھول کر نہ پڑھی اور آخر میں سجدہ سہو کر لیا، تو نماز ہو گئی، دوبارہ پڑھنا ضروری نہیں۔ ہاں اگر دعائے قنوت بھول کر نہ پڑھنے کے بعد آخر میں سجدہ سہو بھی نہیں کیا، تو اس صورت میں نماز دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔ فتاوی ہندیہ میں ہے: ” ومنها القنوت فاذا تركه يجب عليه السهو “ یعنی واجبات نماز میں سے ایک واجب دعائے قنوت ہے، تو جب کوئی اسے (بھول کر ) ترک کر دے، تو اس پر سجدہ سہو واجب ہو گا۔(فتاوی هندیه، جلد 1، صفحه 128، مطبوعه:مصر) بہار شریعت میں ہے : " قنوت یا تکبیر قنوت یعنی قراءت کے بعد قنوت کے لیے جو تکبیر کہی جاتی ہے بھول گیا سجدہ سہو کرے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.